Рет қаралды 148
✨ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ مذہبی اور شرعی معاملات میں بھی محض اپنی محدود عقل کو بنیاد بنا کر فیصلے کرتے ہیں اور شرعی احکامات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ گمراہی کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
✨ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو ایک "مکمل نظام" کے طور پر پوری انسانیت کے لیے نازل کیا ہے، جس میں ہر حکم کے پیچھے کوئی حکمت یا مصلحت پوشیدہ ہے۔ اگر کوئی حکم جائز ہے تو اس پر عمل کرنا باعثِ اجر تو ہے ہی ساتھ ساتھ اسی میں ہمارے لیے دنیاوی فائدہ بھی ہے، اور اگر کسی چیز کو ممنوع یا حرام قرار دیا گیا ہے تو یقیناً اس کے نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔
✨ تجارت اور معیشت کا اسلامی تصور
قرآن و حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ زندگی کے ہر پہلو کو شریعت کی روشنی میں پرکھا جائے۔ تجارت، کاروبار اور معیشت جیسے امور میں بھی اسلام نے حدود مقرر کر رکھی ہیں، جہاں سچائی، امانت داری، اور حلال و حرام کی تمیز رکھنا نہایت اہم ہے۔
لین دین کُھلا اور صاف ہونا چاہیے، اور مال کی اصل کیفیت (خوبی اور خامی دونوں) دوسرے فریق کے سامنے واضح ہو۔
✨ اسلامی تجارت میں بددیانتی، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی، اور ذخیرہ اندوزی جیسے خفیہ ہتھکنڈے ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔
سیّدنا عمرؓ فاروق نے اپنے عہد خلافت میں ایسے تاجروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جو عوام کو دھوکے میں مبتلا کرتے تھے، اسلام ایسے افراد کو برداشت نہیں کرتا جو محض دولت کی ہوس میں عوام کا استحصال کرتے ہیں۔
✨ شرعی علوم کا حصول:
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان تمام شرعی علوم سے واقف ہو اور انہیں مستند ذرائع سے سمجھے۔ یہ علوم ہمیں نہ صرف کاروبار میں کامیابی دلانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اپنی عقل کو شریعت کے احکام کے تابع رکھنا چاہیے تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں۔
✨ آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہماری دنیاوی زندگی بہتر ہوگی بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت عطا فرمائے، دین کی سمجھ بوجھ دے اور حق پر استقامت کی توفیق دے۔ آمین
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
#socioeconomicchallenges #worldaffairs #shariacompliance #islamicshariah #justice #taghoot #worldpowers #eliteclass #capitalism #drisrarahmedofficial #banking